اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ تکریت پر عراقی فوج کا مکمل کنٹرول حاصل ہونے کے بعد اس شہر میں ۱۲ اجتماعی قبریں انکشاف ہوئی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان قبروں میں سترہ سو شیعہ سپاہی مدفون ہیں۔
گزشتہ سال جون میں داعش نے عراقی فوجیوں کا دردناک طریقے سے قتل عام کر کے ان کی انتہائی خطرناک ویڈیو کلیپ اور تصاویر شائع کی تھی۔
تکریت کے قریب واقع اسپائکر نامی فوجی چھاونی جو ۲۰۰۳ میں امریکی فوج کے زیر قبضہ تھی اور ان کے انخلاء کے بعد عراقی فوج نے اسے اپنے اختیار میں لیا پر دھشتگردوں نے گزشتہ سال جون میں مخفیانہ حملہ کیا اور شیعہ فوجیوں کو الگ الگ کر کے ان کا قتل عام کیا۔
اطلاعات کے مطابق انکشاف شدہ اجتماعی قبروں میں سے بعض، قصر صدام میں ہیں۔ شہداء کے اہل خانہ نے لاشوں کی شناخت کے لیے عراقی حکومت پر دباو بڑھا دیا ہے جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ DNA ٹیسٹ کے ذریعے ان کی شناخت کی جائے گی۔
انکشاف شدہ قبریں کھودنے والوں نے انتہائی غم انگیز صورت حال بیان کر تے ہوئے کہا: ہم نے آج ابھی تک ایک قبر کھودی ہے جس سے کم سے کم بیس لاشیں دریافت ہوئی ہیں۔ ابتدائی علامتوں کے مطابق ان قبروں میں ڈالے گئے فوجی اسپائکر فوجی چھاونی سے ہی متعلق کریں۔








...............
۲۴۲